Posts

جائيداد میں یا وراثت میں خواتین کا حصہ

اسلام سے قبل کی طرز معاشرت میں عورت کو کسی قسم کی وراثت کا حق دار نہیں سمجھا جاتا تھا- مگر اسلام کے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے قرآن کی مدد سے بہت وضاحت کے ساتھ اس حق کو بیان کیا ہے اور قرآن میں سورۃ النسا میں نہ صرف عورتوں کا وراثت میں حق تسلیم کیا گیا ہے بلکہ پوری وضاحت کے ساتھ اس کی شرح کو بھی بیان کیا گیا ہے- عام طور پر بیٹی کا حصہ قرآن کے مطابق بیٹے کے حصے سے نصف بیان کیا گیا ہے اسی طرح بیوہ کو بھی وراثت میں حق دار قرار دیا گیا ہے اور اس کی شرح بھی قرآن میں بیان کیا گیا ہے اور پاکستانی قانون کے مطابق بھی اس حق کو تسلیم کیا گیا ہے-  

ارطفل غازی میں ابن عربی کا کردار

  تصوف کے پیروکاروں میں الشیخ اکبر کے نام سے مشہور حضرت محی الدین ابن عربی کو پوری دنیا میں انہیں ایک کامل روحانی شخصیت سمجھا جاتا ہے وہ اپنے خوابوں کے حوالے سے بھی بہت مشہورہیں ان کا کہناہے کہ خواب بھی رہنمائی کا ذریعہ ہیں حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام اوردیگر کئی انبیاء کرام کے خواب اس کی بہترین مثالیں ہیں کہاجاتاہے کہ ابن ِ عربی نے ایک معروف شخصیت سے مخحض اس لئے ناراض ہوکر ملناجلنا حتی ٰ کہ بول چال بندکردی کہ وہ ان کے شیخ (مرشد) پر تنقیدکرتارہتاہے ایک دن ابن ِ عربی ؒ کو خواب میں نبی آخرالزماں ﷺ کی زیارت ہوئی آپ ﷺ بہت خفا تھے ابن ِ عربی نے آگے بڑھ کرآپ ﷺ کے ہاتھوں کا بوسہ لینا چاہا تو آپ نے فرمایاتمہارے شیخ پرتنقید کب سے دین ہوگیاجو تم نے اس سے ناراض ہوگئے ہو یہ خواب دیکھ کر ابن ِ عربی ؒ کی آنکھ کھل گئی وہ پسینے میں شرابور تھے وہ اسی وقت اٹھے اوراپنے مرشدکے خلاف تنقید کرنے والے کے آستانے پر پہنچے اور اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر معافی کے درخواستگارہوئے اور بغلگیرہوگئے یہی ابن ِ عربی اندلس کے نامورمسلم اسکالر ، صوفی ، شاعر ، اور فلسفی ، انتہائی بااثر اسلامی فکر کی حامل ...

رزق حلال

بسم اﷲ الرحمن الرحیم اسلام کے پانچ بڑے ارکان ( کلمہ ، نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ جیسے) فرائض کے بعد حلال مال کمانا فرض ہے۔اور یہ صرف اُس شخص کے ذمہ فرض ہے جو اپنے اور اپنے اہل و عیال کے ضروری خرچ کے لئے مال کا محتاج ہو۔ باقی وہ شخص جس کے پاس ضرورت کے بقدر مال موجود ہو مثلاً وہ صاحب جائیداد ہے یاکسی اور طرح سے اُس کو مال میسر ہے تو اُس کے ذمہ یہ فرض نہیں رہتا۔اِس لئے کہ اﷲ تعالیٰ نے مال کو ضرورتوں کے پورا کرنے کے لئے پیدا فرمایا ہے، تاکہ بندہ اپنی ضروری حاجتیں پوری کرکے اﷲ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہوجائے کیوں کہ رہنے سہنے، کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کے بغیر صحیح طرح سے اﷲ تعالیٰ کی عبادت نہیں ہوسکتی۔ گویا اصل مقصود مال کمانا نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے اﷲ تعالیٰ کی عبادت میں یک سوئی سے مشغول ہونا مطلوب ہے۔ قرآنِ مجید میں اﷲ تعالیٰ انسانوں پر اپنا احسان جتلاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ’’ہم نے دن کمائی کرنے کے لئے بنایا‘‘(سورۃالنبا:11) دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’ہم نے زمین میں تم کو جگہ دی اور اُس میں تمہارے لئے روزیاں مقرر کردین، تم بہت کم شکر کرتے ہو‘‘(سورۃ الاعراف:10 ) ایک اور جگہ ارشاد ...

بےنظیر بھٹوکا لطیفہ - -

  محترمہ بےنظیر بھٹو جب 1993 میں‌دوسری بار وزیراعظم بنی تو انہوں نے پی پی پی کے سردار فاروق لغاری کو صدر پاکستان منتخب کروایا۔ جب چاہتی لغاری صاحب کو اپنے پاس طلب کر لیتی تھیں۔ پہلے انہیں مسٹر لغاری اور بعد مسٹر پریذیڈنٹ کہہ کر پکارتی تھیں۔ عینی شاہدین کے مطابق جب آخری دور میں دونوں میں اختلافات عروج پر پہنچ گئے تو بےنظیر خود چل کر ایوانِ صدر گئیں اور لغاری صاحب سے ملاقات میں انہیں ” بھائی لغاری ” کہہ کر مخاطب کیا۔ فاروق لغاری نے کہا ” میڈم ۔ یہ ملاقات وزیراعظم اور صدر مملکت کے درمیاں ہے۔ بہن بھائی کے درمیان نہیں۔ اس لیے بھائی بھائی کی بجائے سیاسی حالات پر بات کیجئے۔ ” تاکید کے باوجود بھی جب بےنظیر بھٹو ” بھائی لغاری ” کہنے سے باز نہ آئیں تو فاروق لغاری اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اپنی اہلیہ کو بلا کر کہنے لگے ” تمھاری نند آئی ہیں۔ ان سے گپ شپ لگاؤ۔ میں ضروری کام سے آفس جارہا ہوں ” 

سسٹرز کے نام !

  کھیلتی رہتی ہیں،انہیں مریضوں کی کوئی فکرہے اورنہ کوئی پرواہ،یہ ہزاروں کی تنخواہیں لے رہی ہیں لیکن کام ایک ٹکے کابھی نہیں کرتیں۔یہ اوراس طرح کی دیگرباتیں ان کے بارے میں ہم نے نہ صر ف دوسروں سے بار بارسنی بلکہ کئی بارخودبھی ارشادفرمائی اورہزاربارفرمائی ۔بہت سے لوگ تو آج بھی ان کے بارے میں اسی طرح کے نظریات وخیالات رکھتے ہیں۔ہم مانتے ہیں کہ ان کے ہاں بھی نکمے،کام چور اوربرے لوگ ہوں گے۔جس طرح ہرگھراوردرپرنیک،پرہیزگاراوراچھے لوگوں کے ساتھ بداخلاق،بدتمیز،برے اورگناہ گارپائے جاتے ہیں اسی طرح ان میں بھی اچھے ،نیک اورخدائی خدمتگاروں کے ساتھ بداخلاق اوربرے لوگ ہوں گے لیکن شمارکے ان چندبرے اورگناہ گاروں کی وجہ سے جس طرح کسی پورے خاندان،گھر،محکمے،ادارے اورمعاشرے کوبداوربرے کانام نہیں دیاجاسکتااسی طرح ان چندکی وجہ سے ان خدائی خدمتگاروں کوبھی مجرم اورگناہ گارقرارنہیں دیاجاسکتا۔پھران کاشعبہ اورپیشہ توایساہے کہ جس کے بارے میں ہمیشہ کہاجاتاہے کہ خدمت سے خدابھی ملتاہے۔جن کوخدامل جائے ان کوپھراورکیاچاہئیے۔؟کمی پیشی ہرانسان سے ہوتی ہے۔یہ بھی انسان ہیں کوئی روبوٹ نہیں کہ ان سے کوئی غلطی سرزدنہ ہو۔ہما...

ذراسی غلطی

   سانحہ مری اپنے پیچھے بہت سے سوال اور کہی ان کہی کہانیاں چھوڑ گیایہ لالچ میں ڈوبے،خوف ِ خداسے عاری اور شتربے مہار ان انسانوں کی کہانیاں ہیں جو نوچنے پرآئیں توبے بسی سے مرتے ہوئے لوگوں بے گورو کفن لاشوں سے کفن بھی نوچ ڈالیں بلاشبہ یہ انسانی کا ایک خوفناک المیہ اور بے حسی کے جیتے جاگتے ثبوت ہیں ۔کیا پیسوں کیلئے کوئی اتناظالم بھی ہوسکتاہے سوچنابھی محال ہے کہ سیاح برفانی طوفان میں زند ہ دفن ہورہے تھے اور تاجروں سمیت مقامی نوجوانوں کومال ہتھیانے کی پڑی تھی۔ حکومت کا کہنا تھا اس سال ایک لاکھ سے زیادہ گاڑوں میں سیاح مری میں آئے ہیں جس کے باعث پورے علاقہ میں مختلف گاڑیوں کا اژدھام، ہوٹل،سڑکوں،دکانوں پررش ہی رش تاجروں نے ہر چیزکی قیمت بڑھادی وہ زیادہ سے زیادہ منافع کماناچاہتے تھے ایک گاہک جاتاتو کئی اور آجاتے شدید سردی کے باوجودمری میں خاصی چہل پہل تھی رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس خواتین اور بچے عجب بہاردکھارہے تھے سنو فال دیکھنے والے قدرتی حسین مناظر پرمبہوت ہوکررہ گئے فلک پوش پہاڑ، سڑکیں،درخت،ہوٹلوں کی چھتیں اور دکانیں برف سے ڈھک گئیں ماحول پر سردی غالب آنے لگی یوں لگ رہاتھا جیسے ہرچی...

بندگی ، انسانیت

  مجھے یہ لکھتے ہوئے کوئی عار محسوس نہیں ہو رہی کہ پاکستانی قوم اخلاقی لحاظ سے انتہائی پستیوں میں گر چکی ہے۔مجھے ذاتی طور پر اس بات کا اعتراف ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کی اعلی تربیت کرنے سے قاصر رہے ہیں جس کی ذمہ داری ہمارے کند ھوں پر رکھی گئی تھی۔وہ مسلم قوم جو غلامی کی ذلت سے گزری،جس نے ہندو کی سفاکیت کو برداشت کیا ،جس نے انگریز کی عملد اری میں رسوائی کو گلے لگایا جب ایک جھنڈے تلے جمع ہو گئی تو پھر اس کی راہ کوئی روک نہ سکا۔(قائد کے پاس نہ فوجیں تھیں نہ تھے تیر تفنگ۔،۔ اپنا انا کی قوت سے لڑی تھی اس نے جنگ۔۔گلی کوچوں کے فاقہ مست اس کی سپاہ تھے ٹھہرے۔اپنی فہم و فراست سے کیا تھا سب کو دنگ)۔کمزوروں کو شہباز صفت قیادت ہی بناتی ہے ،ان میں اولالعزمی کو لیڈر شب ہی ابھارتی ہے،انھیں مر مٹنے کا جذبہ قیادت ہی عطا کرتی ہے ۔قیادت جب تک ذاتی سودو زیاں کے محور سے دور رہتی ہے قوم اس کی آواز پر لبیک کہتی ہے،اس کی ایک آواز پر سرِ تسلیم خم کر دیتی ہے لیکن جب لیڈر شپ ذاتی کاروبار کی ترقی،پھیلاؤ، افزودگی میں مگن ہو جائے اور ارتکازِ دولت اس کی پہلی ترجیح بن جاتی ہے تو قوم پر سکوتِ مرگ طاری ہو جاتا ہے ۔(دلِ...