Posts

Showing posts from February, 2022

کتوں کا گوشت کس کو کھلایا...؟ Who fed the dog meat ...?

 چند دن پہلے کتے کا گوشت بیچتے ایک قصاب پکڑا گیا لیکن اس مرد کے بچے نے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔ سبق آموز تحریر کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا. جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے بڑے بڑے افسران ۔ سیاستدانوں کے چیلے اور مفت خورے آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت میں ایک د...

عمران خان صاحب پیٹرول سستا کرنا چاہتے ہیں - مگر کب؟

 ایک اہم پیشرفت میں، وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12.03 روپے تک کا اضافہ کر دیا، یہ بات فنانس ڈویژن کی جانب سے منگل کو ایک نوٹیفکیشن میں بتائی گئی۔  نئی قیمتیں 16 فروری سے لاگو ہوں گی اور مہینے کے آخر میں ان پر نظر ثانی کی جائے گی۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ بتاتے ہوئے، جو تاریخ میں پہلی بار 150 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے، فنانس ڈویژن نے کہا: "پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بین الاقوامی مارکیٹ میں زبردست اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اس وقت  2014 کے بعد سے بلند ترین سطح پر۔"  بیان میں کہا گیا ہے کہ سال کے آغاز سے قیمتوں میں اضافے کے باوجود وزیراعظم عمران خان نے 31 جنوری کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا آخری جائزہ موخر کر دیا تھا تاکہ صارفین کو انتہائی ریلیف مل سکے۔  فنانس ڈویژن نے کہا کہ حکومت نے بجٹ کے اہداف کے مقابلے میں صفر فیصد سیلز ٹیکس لگایا اور پیٹرولیم لیوی کی شرح میں کمی کی۔  اس کے نتیجے میں، حکومت کو "موجودہ PL اور ST کی شرحوں کے بجٹ کے حساب سے تقریباً 35 بلین روپے (پندرہ ہفتہ) کا نقصان ہو رہا ہے"۔  بیان میں کہا گیا ک...

سونے کی قیمت بہت زیاده ہوگئی

 بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں اضافے کی مناسبت سے مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت نے اپنا رجحان برقرار رکھا اور ہفتہ کو 1,150 روپے فی تولہ اضافے کے ساتھ 1,26,450 روپے فی تولہ پر بند ہوا۔  مقامی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمت 985 روپے فی 10 گرام اضافے کے بعد 108,410 روپے تک پہنچ گئی۔  ایک روز قبل قیمتی شے 125,300 روپے فی تولہ اور 107,425 روپے فی 10 گرام پر بند ہوئی۔  آل سندھ صراف اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن (ASSJA) کے مطابق، 12 فروری کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران، زرد دھات کی فی تولہ قیمت میں 2,250 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔    سونے کے ڈیلرز کا خیال ہے کہ موجودہ غیر یقینی معاشی حالات نے خطرناک اشیاء سے محفوظ اشیاء کی طرف پرواز کو جنم دیا ہے کیونکہ سونا محفوظ ترین سرمایہ کاری میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔  لہذا، اس کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے کیونکہ ایک سرمایہ کاری تیز رفتاری سے ہو رہی ہے۔  مہنگائی سے متعلق خدشات کے باعث سرمایہ کار سونے پر جارحانہ موقف اختیار کر رہے ہیں۔  وہ سرمایہ کار جو مہنگائی کے اثرات سے بچنے کے لیے غیر ملکی کرنسیوں بالخصوص امری...

مہنگائی کیسے کی جاتی ہے, اور کیوں ؟

Image
 ایک تندور والا  تھا جو 5 روپے میں روٹی بیچتا تھا  اسے روٹی کی قیمت میں اضافہ کرنا تھا لیکن بادشاہ کی اجازت کے بغیر کوئی اس کی قیمت نہیں بڑھا  سکتا تھا۔  تو وہ بادشاہ کے پاس گیا اور کہنے لگا بادشاہ سلامت مجھے روٹی کے 10 روپے کرنے ہیں۔  بادشاہ نے کہا کہ 30 کی کر دو  تندوری نے کہا بادشاہ سلامت اس سے شور مچے گا  بادشاہ نے کہا اس کی فکر نہ کرو   میرے بادشاہ ہونے کا کیا فائدہ۔تم اپنا منافع دیکھو اور روٹی  30 ​​روپے کی کر دو  اگلے دن اس نے روٹی کی قیمت 30 روپے کر دی، شہر میں کہرام مچ گیا لوگ  بادشاہ کے پاس پہنچے اور شکایت کی کہ  تندور والا ظلم کر رہا ہے  30 روپے کی روٹی بیچ رہا ہے  ۔ بادشاہ نے اپنے سپاہیوں سے کہا کہ میرے دربار میں  تندوری کو پیش کرو ،وہ جیسے ہی دربار میں پیش ہوا بادشاہ نے غصے سے کہا، تم نے مجھ سے پوچھے بغیر قیمت کیسے بڑھا دی؟ یہ رعایا میری ہے، لوگوں کو بھوکا مارنا چاہتے ہو۔  بادشاہ نے تندوری کو حکم دیا کہ تم کل سے آدھی قیمت پر روٹی بیچو گے ورنہ تمہارا سر قلم کر دیا جائے گا، بادشاہ کا حکم...

مہنگائی کا بہت بڑا وزن آرہا ہے . پاکستانیوں پر

 آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان تعمیراتی شعبے کے لیے مالیاتی اداروں کی ایمنسٹی اسکیم کنٹرول کرے، آئی ایم ایف نے بجلی کی قیمتیں بھی بڑھانےکا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالرز سے زائد کی قسط موصول ہوگئیرپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تیاری شروع کردی ہے، آئندہ مالی سال ایف بی آرکے لیے 1155 ارب روپےکے اضافی ٹیکس کا ہدف رکھا گیا ہے، آئندہ مالی سال کے لیے ایف بی آرٹیکس ہدف 7255 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے،پیٹرولیم لیوی کی مد میں406 ارب روپےکی وصولیوں کی تجویز ہے اور براہ راست ٹیکسوں کی مد میں 2711 ارب روپے وصولی کی تجویز دی گئی ہے۔  آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہےکہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پرعمل درآمد مکمل کرے،  پاکستان نےمنی لانڈرنگ کے خلاف27 میں سے 26 نکات پر عمل درآمد کیا ہے، پاکستان اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دیے گئےگروپوں کے رہنماؤں کے خلاف تحقیقات کرکے سزا دلوائے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہےکہ  پاکستان اے پی جی کی طرف سے نشاندہی کے بعد مالیاتی نظام می...

عمران خان کی تبدیلی کا مزہ لو

  پی ٹی آئی کے بانیان میں سلجھے ہوئے سیاستدان، سینئر وکلاء، ریٹائرڈ جج، جنرلز، بیوروکریٹس، ادیب، دانشور، معیشت دان، پروفیسرز، ڈاکٹرزودیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے منجھے ہوئے افراد شامل ہوئے۔ اور بالا شبہ پی ٹی آئی جماعت کو پاکستان کے پڑھے لکھے اور نوجوان افراد کی جماعت کہا جاتا رہا ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کی کثیر نوجوانوں کی تعداد جو روایتی سیاستدانوں جیسا کہ نواز شریف، زرداری اور آمروں سے تنگ تھی وہ بھی فوج در فوج پی ٹی آئی کا حصہ بنتی گئی۔ میری نظر میں جیسے 23 مارچ 1940 کو قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی اسی طرح 30 اکتوبر 2011 کو ''نیا پاکستان'' کی قرارد منظور ہوئی تھی۔جب پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین جناب عمران خان نے مینار پاکستان میں پاکستان تحریک انصاف کے عظیم و شان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپکا لیڈر آپ سے کبھی جھوٹ نہیں بولے گا۔ کیونکہ اس جلسہ کے بعد وہ تحریک انصاف کہ جسکے چیرمین کو عام انتخابات میں خود اپنی نشست جیتنا بہت مشکل ہوتا تھا اور شیخ رشید جیسے منجے ہوئے سیاستدان خود عمران خان کے منہ پر انہیں ٹانگہ پارٹی کہا کرتے تھے، پھر اسی...

زندگی کا مقصد الله کی عبادت ...

  دور جدید کی حیرت انگیز ایجادات کے منفی استعمال کے باعث بہت سے مسلمان فسق و فجور میں اتنے مبتلاہوچکے کہ ان کے پاس عبادت و ذکر الٰہی کی فرصت بھی نہ رہی۔ اور اس سنگین صورتحال کی وجہ سے آج ہمارے معاشرے میں رزق کی تنگی اور معاشی بد حالی عروج پر ہے، اور ہر دوسرا تیسرا شخص اخراجات پورے نہ ہونے کا شکوہ کرتا نظر آتا ہے۔ حدیث قدسی ہے خاتم النبیین محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے اے آدم کے بیٹے تو میری عبادت کیلئے اپنے آپ کو فارغ کرلے میں تیرے دل کو مالداری سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی کو دور کردوں گا ، اور اگر تونے ایسا نہ کیا تو تیرے دل کو دنیا کے دھندوں سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کو دور نہ کروں گا ۔ (مسند احمد ، الترمذی ) اسی طرح صحیح ابن ماجہ میں حدیث قدسی ہے، فرمان الٰہی ہے ’’ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یک سو ہو جا تو میں تیرا سینہ بے نیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کر دوں گا، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیت سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا‘‘۔ درج بالا حدیث قدسی آنکھیں کھولنے اور بصیرت حاصل کرنے کے لئے کافی ہے ۔ اس کے ذری...

واٹس ایپ پر خودکار جوابات کیسے مرتب کریں؟

 واٹس ایپ پر بہت سی ترکیبیں ہیں جو ایپلیکیشن کے اندر دریافت کی جائیں گی، اور جو صارفین نے دریافت کی ہیں اور فریق ثالث کی ایپلیکیشنز پر لاگو ہیں۔  تاہم، انہیں اب بھی ایک ایسا روبوٹ تیار کرنا ہے جو خود بخود جواب دینے کے لیے تیار ہو، جو خاص طور پر اس وقت مفید ہو سکتا ہے جب ہم کام میں مصروف ہوں، یا جب ہمارے پاس اپنے اسمارٹ فونز کو کنٹرول کرنے کا امکان نہ ہو۔  تاہم، اس وقت ایک تھرڈ پارٹی ایپلی کیشن موجود ہے جو سب سے زیادہ مصروف صارفین کو مطمئن کر سکتی ہے۔  درحقیقت، ایپلی کیشن کو "خودکار سپونڈر" کہا جاتا ہے۔  اور ہمیں ایک خودکار جواب سیٹ کرنے کی اجازت دیتا ہے، جسے متعدد بار بھیجا جا سکتا ہے اور صارف کو کتنا وقت لگے گا۔  درحقیقت، کئی جوابات ہیں جو سیٹ کیے جاسکتے ہیں، جیسے کہ "Ok"، "میں پہنچتا ہوں"، "We see them" یا یہ بھی کہ "میں ابھی اپنے راستے پر ہوں، چلو بعد میں بات کرتے ہیں"۔  اس کے علاوہ اس ایپلی کیشن میں ایک ٹائمر بھی ہے، جس کی مدد سے ہم اسے چلانے کا وقت مقرر کر سکتے ہیں۔  واٹس ایپ پر دو ارب سے زیادہ فعال صارفین ہیں۔  درحقیقت وہ لوگ جو ا...

پانی پینے کے لئے کیا پیاس لگنے کا انتظار کرنا چاہئے ؟ انتہائی اہم معلومات

 اس میں کوئی شک نہیں کہ پانی جسم کے لیے بہت ضروری ہے۔ ہمارے جسم کے کل وزن کا دو تہائی حصہ پانی ہی ہوتا ہے۔ پانی جسم سے خراب عناصر کو باہر نکالنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ہم پسینے، پیشاب اور سانسوں کے ذریعہ پانی جسم سے خارج کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں بے حد ضروری ہے کہ ہم جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔  پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال انسان کو مختلف طبی امراض اور پیچیدگیوں سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ سردی کے موسم میں پانی کے استعمال میں کمی سے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ موسم سرما میں خشکی اور آب و ہوا میں نمی کم ہونے کی وجہ سے جسم کو پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔پانی کی مناسب مقدار انسان کے جسم کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ غذائیت سے بھرپور خوراک۔ڈائٹ آف دی ٹاؤن کلینک سے تعلق رکھنے والے غذائیت کے ماہر 'عبیر ابو راجیلی' سردیوں کے موسم میں خاص طور پر زیادہ پانی پینے پر زور دیتے ہیں۔تھکاوٹ، سستی اور دیگر ایسے مسائل کے باعث انسانی طبیعت اکتاہٹ کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایسے افراد موسمی بیماریاں جیسے نزلہ زکام وغیرہ کی بھی شکایت کثرت سے کرتے ہیں جس کی عام طور پر وجہ پانی کی قلت ہ...

واٹس ایپ استعمال کرنے والوں کے لیے حیران کن چیز آگی ہے

 واٹس ایپ نے صارفین کو ایک اور خوشخبری سنادی، واٹس ایپ انتظامیہ صارفین کے لئے  نئے فیچرز متعارف کرانے کے لئےسرگرم عمل ہے، سوشل میڈیا کے اس دور میں پیغام رسانی کے لئے مختلف ایپس استعمال کی جارہی ہے، صارفین کی پڑھتی ہوئی دلچسپی کو پیش نظر رکھتے واٹس ایپ نے مزید نئے فیچر پر کام شروع کیا ہے جس کے ذریعے تصاویر اور ویڈیوز بھیجنا مزید آسان ہوگا۔  فیس بک کی زیر ملکیت کمپنی واٹس ایپ نے صارفین کے لئے ایک اور زبردست فیچر پر کام شروع کردیا ہے۔نئے فیچر کی مدد سے صارفین   چیٹ کے دوران تازہ ترین کھینچی گئی تصاویر  یا ویڈیوز کو   آسانی سے دوسرے صارف کو بھیج سکیں گے۔ویب سائٹ واٹس ایپ بیٹا انفو  کےمطابق شروع کئے اس نئے فیچر کا نام 'NEW MEDIA PICKER'ہے۔ اس فیچر سے صارفین کو کھینچی گئی تصاویر یا ویڈیوز کو منتخب کرنے میں آسانی ہوگی جس کےبعد وہ  دوسرے صارف کو بھیج سکیں گے۔تصویر یا ویڈیوز بھیجنے کے لئےفون کی گیلری میں 2 آپشن فراہم کیے جائیں گے۔  جس میں ایک ٹیب RECENT یعنی حالیہ تصاویر یا ویڈیوز جبکہ دوسرا GALLERY کا ٹیب ہوگا جس میں موبائل میں موجود تما...

آج کل کے لخت جگر

  ایک 50 سال کی اماں نے اپنے بوڑھے شوھر کو آواز دی کہ "اے جی سنئیے گا یہ الماری کا شیشہ نھی کھل رھا" بوڑھا باپ آگے بڑھا اور کھولنے کی کوشش کی لیکن زیادہ کامیاب نہ ھو سکا ، جوان بیٹا آگے بڑھا ذرا سا زور لگایا آسانی سے کھل گیا اور غصے سے بولا: "لو جی ، یہ بھی کویی مشکل کام تھا" باپ مسکرایا اور بولا "بیٹا یاد ھے؟ جب تو بچہ تھا اور گھر کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرتا تھا تو میں جان بوجھ کر آھستہ آھستہ تیرے دروازے کھولنے میں اس طرح مدد کرتا تھا کہ تو سمجھے کہ دروازہ تو نے خود کھولا ھے تاکہ تیرے اندر اعتماد آئے ، تیرا دل نہ ٹوٹنے پاۓ اور تیری ھمت بڑھے" باپ کی بات سننا تھی کہ جوان بیٹا متوجہ ھو گیا اور اسکی آنکھ سے آنسو جاری ھونا شروع ھو گئے اسی طرح ایک دفعہ بوڑھے باپ نے بیٹے سے پوچھا "یہ جو تو نے نئی گاڑی خریدی ھے اس کا نام کیا ھے ؟ بیٹا بولا "ھنڈا " چند گھنٹوں بعد بوڑھے باپ گاڑی کا نام بھول گیا تو اس نے دوبارہ سوال کیا. بیٹا حیران ھو کر بولا "ابو ھنڈا هے " رات کو سونے سے پہلے باپ نے پھر سوال کیا کہ کیا نام بتایا تھا ؟ اب تو جوان بیٹا کنٹر...

انا پرستی میں پھنسنا میرا

  آجکل جیسے ہر چیز کا آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے ( بیشک کوئی ادارہ اٹھا کے دیکھ لیجیے یا کسی نظام پر نظر ڈال لیجیے،ابتری اور تنزلی ہی نظرآئے گی )۔ بالکل ویسے ہی ہمارا اپنا بھی آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ اس بگاڑ کی وجہ کو شاعر مشرق علامہ اقبال نے اپنے الفاظ میں کچھ یوں بیان کیا ہے کہ :- خودی کی موت سے مشرق ہے مبتلائے جذام شاعر مشرق علامہ اقبال نے تو یہ مصرعہ غلامی میں جکڑے مسلمانوں کے لیے کہا تھا لیکن یہ آج کے آزاد مسلمانوں پر بھی بالکل صادق آتا ہے۔ کیونکہہماری خودی ایک دفعہ پھر قریب المرگ ہو چکی ہے۔ ہماری 'میں'، جسے اقبال نے خودی کہا، انا کے بھنور میں اس قدر پھنس چکی ہے کہ اسنے صحیح اور غلط کے سارے فرق مٹا دئیے ہیں۔یہ میں ہمیں کہتی ہے کہہمیشہ میں ہی ٹھیک ہوں اور دوسرے غلط۔یہ میں کہتی ہے کہ سب کچھ میرے پاس ہونا چاہئے چاہے اس کے لیے کوئی بھی حد کیوں نہ پار کرنی پڑے۔یہ میں کہتی ہے کہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے دوسروں کے آرام و سکون کا خیال رکھنے کی قطعی ضرورت نہیں۔ یہ میں کہتی ہے کہ مجھے ہر میدان میں سب سے آگے ہونا ہے چاہے اس کے لیے دوسرے کو روند کے کیوں نہ جانا پڑے۔ اس بات کو سمجھنے ک...

منافع خور کتنا ظالم اور دشمن ہمارا

  ہمارے ہاں چور بازاری تو عام سی بات ہے ہم گاہکوں کے کپڑے بھی اتار نے کی کوشش کرتے ہیں خو ش قسمتی سے اگر کوئی بچ جائے تو یہ اسکا نصیب آپ کسی رہڑی یا تھلے والے سے کوئی چیز پھل وغیرہ خریدتے ہیں تو اس بات کا بخوبی اندازہ بھی ہوگا کہ گھر جاکر جب تھیلا کھولتے ہیں تو اس میں سے گلا سڑا پھل بھی نکل آتا ہے اس سے تھوڑا سا اوپر چلیں تو پیٹرول پمپ والے اپنا میٹر اپنی مرضی سے چلاتے ہیں آپ رکشہ میں بیٹھیں تو کرایہ آپ کی سوچ سے ڈب مانگیں گے بس میں سوار ہونے لگیں گے تو بس کنڈیکٹر اور ہیلپر آپ کے کپڑے بھی پھاڑ دیگا اگر آپ اسکی بس میں نہ بیٹھیں گے کھانے والے ہوٹل پر چلے جائیں وہاں آپ کو چربی والے گھی سے تیار کیا ہوا سالن ملے گا اور کیمیکل والی پتی سے تیار ہونے والی مزیدار چائے پیش کی جائیگی اگر کوئی تہوار آگیا تو پھر اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنا شروع کردیگی دوکانداروں کو اگر علم ہوجائے کہ فلاں چیز کی قلت پیدا ہوگئی ہے تو وہ اسے چھپانے کا کام شروع کردیں گے اور پھر اپنی مرضی کی قیمت وصول کرینگے آپ موٹر وے پر سفر کررہے ہیں تو وہاں پر بھی قیمتیں وہ اپنی مرضی سے وصول کرتے ہیں ابھی ابھی کچھ دن قبل ...