جائيداد میں یا وراثت میں خواتین کا حصہ


اسلام سے قبل کی طرز معاشرت میں عورت کو کسی قسم کی وراثت کا حق دار نہیں سمجھا جاتا تھا- مگر اسلام کے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے قرآن کی مدد سے بہت وضاحت کے ساتھ اس حق کو بیان کیا ہے اور قرآن میں سورۃ النسا میں نہ صرف عورتوں کا وراثت میں حق تسلیم کیا گیا ہے بلکہ پوری وضاحت کے ساتھ اس کی شرح کو بھی بیان کیا گیا ہے- عام طور پر بیٹی کا حصہ قرآن کے مطابق بیٹے کے حصے سے نصف بیان کیا گیا ہے اسی طرح بیوہ کو بھی وراثت میں حق دار قرار دیا گیا ہے اور اس کی شرح بھی قرآن میں بیان کیا گیا ہے اور پاکستانی قانون کے مطابق بھی اس حق کو تسلیم کیا گیا ہے-
 

Comments

Popular posts from this blog

پوٹاش کیا ہے اور کیوں ضروری ہے.

واٹس ایپ استعمال کرنے والوں کے لیے حیران کن چیز آگی ہے

عمران خان کی تبدیلی کا مزہ لو