*اپنی رائے ضرور دیں* ایک ایسا نام جو ڈی اے پی اور یوریا کے بعد تیسرے نمبر پر لیا جاتا ہے۔* * *کوئ بھی فصل ہو ماہر زراعت پوٹاش کا مشورہ ضرور دے گا۔* *-کوئ بھی باغ ہو ماہر زراعت پوٹاش کا مشورہ ضرور دے گا* یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے کسان کو پوٹاش کی الف ب کا بھی علم* *نہیں ہے کسان سمجھتا ہے کہ مجھ پر ایک فضول کھاد تھونپنے کی کوشش کی* *جا رہی ہے، جس کا کوئ فائدہ نہیں ہے۔ بس خرچ بڑھانے والی بات ہے۔ ہمارے اکثر کسان بھائیوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ پوٹاش ایک کھاد* *ہے یا کوئ ٹانک، بوری میں ملتی ہے یا تھیلے میں۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ پوٹاش کھاد والی کمپنیوں سے ملتی ہے یا* *پیسٹی سائیڈ کمپنیوں کے پاس ہے۔ *پوٹاش کیوں ضروری ہے؟*پوٹاش کی مثال ایک مستری کی سی ہے یعنی تمام کھادوں کو ان :1* *کی ضرورت کی جگہ تک پہنچانا پوٹاش کی ذمہ داری ہے۔ *یہ پوٹاش ہی ہے جو قد کو حد سے ذیادہ بڑھنے نہیں دیتا۔ :2* یہ پوٹاش ہی ہے جو پتوں، پھولوں اور پھلوں/ٹینڈوں اور بیجوں کو :3* *بر وقت اور ضرورت کے مطابق خوراک مہیا کرتا ہے۔ ذمین سے جانے والی ہر خوراک کو اس کی ضرورت کی جگہ تک لے :4* جانا اور پتوں میں بننے والی خوراک کو...
ہمارے ہاں چور بازاری تو عام سی بات ہے ہم گاہکوں کے کپڑے بھی اتار نے کی کوشش کرتے ہیں خو ش قسمتی سے اگر کوئی بچ جائے تو یہ اسکا نصیب آپ کسی رہڑی یا تھلے والے سے کوئی چیز پھل وغیرہ خریدتے ہیں تو اس بات کا بخوبی اندازہ بھی ہوگا کہ گھر جاکر جب تھیلا کھولتے ہیں تو اس میں سے گلا سڑا پھل بھی نکل آتا ہے اس سے تھوڑا سا اوپر چلیں تو پیٹرول پمپ والے اپنا میٹر اپنی مرضی سے چلاتے ہیں آپ رکشہ میں بیٹھیں تو کرایہ آپ کی سوچ سے ڈب مانگیں گے بس میں سوار ہونے لگیں گے تو بس کنڈیکٹر اور ہیلپر آپ کے کپڑے بھی پھاڑ دیگا اگر آپ اسکی بس میں نہ بیٹھیں گے کھانے والے ہوٹل پر چلے جائیں وہاں آپ کو چربی والے گھی سے تیار کیا ہوا سالن ملے گا اور کیمیکل والی پتی سے تیار ہونے والی مزیدار چائے پیش کی جائیگی اگر کوئی تہوار آگیا تو پھر اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنا شروع کردیگی دوکانداروں کو اگر علم ہوجائے کہ فلاں چیز کی قلت پیدا ہوگئی ہے تو وہ اسے چھپانے کا کام شروع کردیں گے اور پھر اپنی مرضی کی قیمت وصول کرینگے آپ موٹر وے پر سفر کررہے ہیں تو وہاں پر بھی قیمتیں وہ اپنی مرضی سے وصول کرتے ہیں ابھی ابھی کچھ دن قبل ...
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان تعمیراتی شعبے کے لیے مالیاتی اداروں کی ایمنسٹی اسکیم کنٹرول کرے، آئی ایم ایف نے بجلی کی قیمتیں بھی بڑھانےکا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالرز سے زائد کی قسط موصول ہوگئیرپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تیاری شروع کردی ہے، آئندہ مالی سال ایف بی آرکے لیے 1155 ارب روپےکے اضافی ٹیکس کا ہدف رکھا گیا ہے، آئندہ مالی سال کے لیے ایف بی آرٹیکس ہدف 7255 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے،پیٹرولیم لیوی کی مد میں406 ارب روپےکی وصولیوں کی تجویز ہے اور براہ راست ٹیکسوں کی مد میں 2711 ارب روپے وصولی کی تجویز دی گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہےکہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پرعمل درآمد مکمل کرے، پاکستان نےمنی لانڈرنگ کے خلاف27 میں سے 26 نکات پر عمل درآمد کیا ہے، پاکستان اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دیے گئےگروپوں کے رہنماؤں کے خلاف تحقیقات کرکے سزا دلوائے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہےکہ پاکستان اے پی جی کی طرف سے نشاندہی کے بعد مالیاتی نظام می...
Comments
Post a Comment