Posts

عمران خان اپنے وزیر تبدیل کریں

  جب کسی عوامی نمائندے کو یہ حق حاصل ہو جائے کہ وہ بھاری مینڈیٹ سے منتخب ہونے کے بعد ایسا مطلق العنان حکمران بن جائے کہ جمہور کے سوال کو گالی اور فریاد کو حریف کی چال سمجھے ، کشکول توڑنے کا دعوی کرے مگر کشکول بردار بن کر ملکوں ملکوں گھومتا پھرے ،میرٹ کے دعوے بھلا کر آؤٹ آف ٹرن بھرتیوں کووقت کی ضرورت اور مجبوری کہے، حلیفوں کے اللّوں تلّلوں پر آنکھیں اور کان بند کر لے کہ جزا و سزا کا معیار ہی بدل دے ،بیروزگاری کے واویلوں پر ڈھٹائی سے مضحکہ خیز بیانات داغے ، نقادوں کی تنقید کو اصلاح نہیں بلکہ بغاوت قرار دے ،ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کا ایسا بول بالا ہو کہ ہر طرف افراتفری ، عدم برداشت اور نفسا نفسی کا عالم ہو اور وہ میڈیا پرمعاشی خسارے کے قصے سنائے ، سرکاری نوکریوں سے بچنے کی تلقین کرے اور سرکاری اداروں کو بند کرنے کا عندیہ دے تو یقین کر لینا چاہیے کہ ’’یہ وقت گزرنے والا ہے‘‘! حکومت آزمائش کا میدان ہوتی ہے ،اﷲ پاک مشکلوں،آزمائشوں اور خدائی آفات کے ذریعے انسان کو جھنجھوڑتا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرلے اور بہتر حکمت عملیاں ترتیب دے لے۔ایسے میں دور اندیش کانپ جاتے ہیں جبکہ غافل اور زبان د...

اسلام اور پاکستان کے دشمن

  پاکستان اور اسلام کے دشمن پریشان ہیں کہ دنیا کے خطرناک ترین فضائی طیارے پاکستان کے پاس ، دنیا کا خطرناک ترین ہتھیار ایٹم بم کے فارمولے اور بنانے والا بھی پاکستان ،دنیا کے خطرناک ترین جدید کروز میزائل سپر سونک میزائل جدید دفاعی نظام بھی پاکستان ، بلاسٹک میزائل اور ان تمام میزایلوں کی ٹیکنالوجی بنانے کے فارمولے یہ بھی پاکستان کے پاس اور پاکستان بنا بھی چکا ہے ۔ جدید اسٹیلتھ ٹیکنالوجی ۔ تمام لیزر ٹیکنالوجی۔دنیا میں تمام وہ خطرناک ترین ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی بھی پاکستان کے پاس اور پاکستان بنا بھی چکا ۔ دنیا کی خطرناک ترین جنگیں لڑنے والا بھی پاکستان۔گوریلا وار کا سلطان بھی پاکستان۔ففتھ جنریشن وار ہائبریڈ وار کا سلطان بھی پاکستان ۔ دنیا کی خطرناک ترین خفیہ ایجنسی مارخور ISI بھی پاکستان کے پاس ۔ دنیا کی خطرناک ترین افواج بھی پاکستان کے پاس ۔ دنیا میں جنگی حکمت عملی کے ماہر ترین خطرناک ترین دماغ پاک فوج کے وہ بھی پاکستان کے پاس۔ پوری دنیا حیران اور پریشان ہے کہ ایک چھوٹا سا پاکستان اور اتنے سارے اس کے دشمن ، اس کے باوجود سارے دشمنوں کو تگنی کا ناچ نچانے والا بھی پاکستان ۔ بیرونی دشمنوں ک...

حضرت اابوبکرصدیق رضیﷲ عنہ کے فضائل

  کتاب اوراق غم کے صفحہ ۲۲۰ پرلکھاہے کہ حضرت اابوبکرصدیق رضی ﷲ عنہ کااسم شریف عبدالکعبہ تھا ۔جب آپ رضی اﷲ عنہ شرف اسلام سے مشرف ہوئے توآپ کااسم شریف عبداﷲ رکھاگیااورابوبکرصدیق کنیت ۔علاوہ اس کے عتیق، صدیق آپ نے لقب پائے۔صدیق کالقب حضورصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کوعطافرمایا۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے کبھی بت کوسجدہ نہ فرمایا۔امام احمدقسطلانی شرح بخاری میں نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ کی عمرمبارک ۴ سال کی ہوئی توآپ کے باپ عثمان جن کی کنیت ابوقحافہ ہے انہیں بت خانہ میں لائے اورکہا یہ ہیں تمہارے بلندوبالاخداانہیں سجدہ کرو۔ آپ بت کے سامنے تشریف لے گئے اورفرمایامیں بھوکاہوں مجھے کھاناکھلادے،میں ننگاہوں مجھے کپڑے پہنا،جب کوئی جواب نہ ملااورحقیقت میں جواب ملتابھی کیاکیونکہ بت توبت ہی ہوتاہے۔ آپ نے فرمایا میں پتھرمارتاہوں اگرتوخداہے تواپنے آپ کوبچا۔اس کاجواب بھی نہ ملاتوآپ نے ایک پتھراٹھاکراس کے مارا، وہ بت گرگیااورقوت خدادادکی تاب نہ لا سکا ۔ باپ نے یہ دیکھ کرصدیق پرغصہ کیااوررخسارمبارک پرتھپڑامارا۔پھروہاں سے آپ کی والدہ کے پاس لائے اورتمام واقعہ گزشتہ سنایا ۔انہوں نے کہا اسے اس کے حال پرچھوڑدو۔جب یہ پ...

طالب علم کے مسائل اور اُن کا حل

  سن المآب, Kohat) کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی میں سب سے اہم کردار پڑھی لکھی اور جوان نسل کا ہوتا ہے. اگر معاشرہ پڑھا لکھا ہوگا تو تمام اچھی عادات اس میں خودبخود آجائیں گی. لیکن اگر نوجوان نسل کو تعلیم حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا ہے تو ایک اچھے ماحول کی توقع رکھنی بیکار ہے. دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک اپنے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں لگے رہتے ہیں. اور جوان ہوتی نسل کو تعلیم یافتہ بنانے میں لگے ہیں. مگر بد قسمتی سے ہمارے ملک میں باقی تمام شعبوں کی طرح تعلیم کا شعبہ بھی زبوں حالی کا شکار ہے. کسی بھی ملک کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے نوجوانوں کو مفت تعلیم مہیا کرے. مگر افسوس کے ساتھ ہمارے ہاں تعلیم دن بہ دن مہنگی ہوتی جا رہی ہے. جو غریب بچوں سے پڑھنے کا حق چھین رہی ہے. مہنگائی کے اس ہوشربا دور میں جہاں دو وقت کی روٹی مشکل سے میسر ہے وہاں غریب والدین کے لیے بھاری فیسیں دے کر بچوں کو پڑھانا کافی مشکل ہوگیا ہے. اگر پاکستان میں رائج تعلیمی نظام پر بات کی جائے. تو عام طور پر پاکستان میں رٹا سسٹم عام ہے. جسکی وجہ سے طالب علموں کی صلاحیتیں کھل کر سامنے نہیں آتیں. غیر ضروری چیزوں پر توجہ دی...

خاموشی اختیار کرو

  میرے استاد محترم ابن الحسن عباسی مرحوم نے ایک موقع پر فون کیا اور ایک مختصر جملہ کہا. " امیرجان خاموشی سے اپنے ادارے کے لئے پلاننگ کرو، مخیر حضرات پیدا کرو، فیس بک میں شور نہ ڈالو". استاد محترم کے یہ الفاظ میرے لیے حکم کا درجہ رکھتے تھے، اس پر اسی دن سے عمل شروع کیا یعنی شور ڈالنا چھوڑ دیا. میں اپنے بہت سارے معاملات میں، اپنے بھائی جیسے دوست ذیشان پنجوانی سے مشاورت کرتا ہوں. مشورہ اس سے کیا جاتا ہے جو امانت داری سے کام لے، امانت داری سے وہی کام لے سکتا ہے جو امانت دار اور مخلص ہو اور مشورہ دینے کا اہل بھی ہو یعنی اس فیلڈ کا ماہر بھی ہو."المستشار موتمن" (ترمذی)، جس شخص سے مشورہ کیا جاتا ہے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ امانت دار ہو، کام کی نوعیت کو جانتا بھی ہو، مشورہ لینے والے شخص کے راز کو کسی پر منکشف نہ کرے. راز فاش کرنا ایک طرح کی خیانت ہے اور ایک مخلص دوست اور مسلم خیانت نہیں کرسکتا.نہ اس سے اس کی توقع کی جاسکتی ہے. ایک مالیاتی مشکل کا ذیشان بھائی سے عرض کیا تو انہوں نے کچھ ممکنہ صورتیں بتا دیں، ان سب پر بظاہر عمل کرنا ممکن نہیں تھا، پھر انہوں نے ایک مشورہ دیا جو ب...

پاکستانی کرکٹ ٹیم سے طوفان کیسے ٹلے گا

  چھ سال میں تنکا تنکا جوڑ کر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے جو آشیانہ بنایا تھا، اب اچانک کسی ریت کے محل کی مانند منہدم ہوتا نظر آ رہا ہے اور اس کے ساتھ وہ تمام تر امیدیں بھی دم توڑ رہی ہیں جو پاکستان کرکٹ شائقین اس لبالب بھرے ہوم سیزن سے جوڑے بیٹھے تھے۔ جمعے کی سہہ پہر سے اب تک کی طوفان خیزی میں سارا کیا دھرا کسی سیلابی ریلے کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ نیوزی لینڈ کا دورہ اس سفر کا اہم ترین سنگِ میل ہوتا اگر بخوبی انجام پا جاتا، مگر یہ ہو نہ پایا۔ اور پھر کیویز کی پیروی کرتے ہوئے اب انگلش کرکٹ بورڈ نے بھی آئندہ ماہ کے دورے سے انکار کر چھوڑا ہے اور پی سی بی کی ساری جدوجہد ایک ہچکولے کے ساتھ واپس اُسی کھائی میں جا گری ہے جو 2009 میں سری لنکن ٹیم پہ حملے کے بعد اس کا مقدر بنی تھی۔ پی سی بی کا دکھ سوا ہے کہ 2009 کے برعکس اس بار تو کچھ ایسا ہوا بھی نہیں جو ایسی بے مہری کا حق دار ٹھہرتا۔ پاکستان بہت تسلسل کے ساتھ انٹرنیشنل کرکٹ کی میزبانی کرتا چلا آ رہا تھا اور سال کے اوائل میں جنوبی افریقہ جیسی ہائی پروفائل ٹیم کا دورہ اس قطعیت کا اظہار تھا کہ اب دن پھر چکے ہیں۔ لیکن اب یہ سارا سفر ...

ارطغرل غازی کے الیکشن کا چرچہ

  میں ٹی وی سیریلس بہت کم دیکھتا ہوں،مگر پچھلے دنوں لوگوں میں ترکی سریل ارطغرل غازی کاچرچہ سنا توکچھ ایپیسود میں نے بھی دیکھ لئے،سارے کا سارے سیریل ہمت،شجاعت،حکمت اورتوکل اﷲ پر مبنی کہانی پر مشتمل ہے،کیوں نہ ہو یہ سیریل اْس شخص کی تاریخ پر مشتمل ہے جس نے براعظم ایشاء اور آفریقہ کی سرحدوں تک 700 سالوں تک حکومت کرنے والے شخص کی ہو۔اطغرل غازی سیریل سے اگر کچھ پیغام ملتاہے تو وہ اپنے بازوں پر اعتمام اور خدا پر اْمید کے سہارے جینے کا پیغام ہے۔اس وقت اترپردیش سمیت ملک کے پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات شروع ہوچکے ہیں۔ان انتخابات کو لیکر ہر سوں چرچہ چل رہاہے،کوئی اپنے ہی شہرمیں بیٹھ کر کسی مخصوص پارٹی کی تشہیر کررہاہے تو کوئی علماء کے ذریعے یہ کہلوارہاہے کہ مسلمانوں میں اتحاد پیدا ہوجائیا ور وہ ایک پارٹی کاانتخاب کرتے ہوئے ایک پارٹی کو ہی ووٹ دیں،اسدالدین اویسی کے تعلق سے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے کہ اْنہیں مسلمانوں کا قائد بننے نہ دیاجائے بلکہ مسلمانوں کو یادو،برہمنوں،گوڈا، لنگایت ،دلت،چودھری،ٹھاکر بنیئے اور مراٹھا لوگوں کی چاپلوسی کرتے ہوئے اْن کے تلوے چاٹتے رہنے کیلئے چھوڑدیاجائے۔جتنی ...